وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں آئندہ دو ہفتوں کی توسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے جس کا اعلان وزیر اعظم نے خود کیا ہے۔

لاک ڈاؤن آگلے دو ہفتوں تک جاری رہے گا مگر ایسی جگہوں پر جہاں عوامی اجتماع ہو سکتا ہے۔‘ عمران خان کا کہنا تھا کہ آئندہ دو ہفتے تک ہوٹلز، شاپنگ مالز، سپورٹس ایونٹس اور دیگر غیر ضروری اجتماعات پر پابندی رہے گی۔

وزیر اعظم نے کل سے پاکستان میں تعمیراتی شعبے اور چند صنعتوں کو کھولنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم نے لاک ڈاؤن کے ذریعے اپنے آپ کو محفوظ رکھا اگرچہ اس میں انھیں مشکلات کا سامنا بھی ہوا اور کئی افراد کا روزگار بھی ختم ہوا۔

وزیر اعظم کے مطابق تعمیراتی صنعت کھول دی گئی ہے اور اس بارے میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلی سے مشاورت کرنے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں اب تک 190 افراد ہلاک ہو سکتے تھے تاہم ملک میں اب تک صرف سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اپنے ذہن میں رکھیں کہ کورونا وائرس کسی بھی وقت پھیل سکتی ہے اور اسی وجہ سے ہمیں احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر یہ بیماری اس طرح آہستہ انداز سے پھیلتی رہی تو ہمارے ملک میں موجودہ صحت کی سہولیات کافی ہیں مگر اگر یہ مرض تیزی سے پھیلا تو ہمارا صحت کا نظام اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اس لیے احتیاط کریں۔

اگر کوئی صوبہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ابھی لاک ڈاؤن کو ہٹانے یا نرم کرنے پر تیار نہیں ہیں تو 18 ویں ترمیم کے بعد ان کو اختیار ہے کہ وہ اپنا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ مرکز ان پر اپنی سوچ مسلط نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے صوبوں میں 98 فیصد ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

کل ایک آرڈیننس لایا جا رہا ہے جس کے ذریعے تعمیراتی شعبے کے لیے پیکج کا نفاذ کیا جائے گا۔